خارش کی بیماری کے اسباب اور اس کا طریقہٰ علاج

Homeجلد کی بیماریاں

خارش کی بیماری کے اسباب اور اس کا طریقہٰ علاج

گرمی دانے (گھموریا)وجو ہات اور علاما ت
پھوڑے, پھنسیاں؟
چیچک کی بیماری کی بیماری کا علاج ارو اس سے بچنے کا طریقہ

خارش کی بیماری کی وجہ؟

یہ فوراً پھیلنے والی جلد کی بیماری ہے۔ اس میں سب سے پہلے چھوٹی چھوٹی پھنسیاں نکلتی ہیں۔ یہ پھنسیاں ہاتھ پاؤں کی انگلیوں کے درمیان ، کلائیوں کے پچھلے حصے میں اور بغل میں نکلتی ہیں۔ آہستہ آہستہ یہ سارے جسم میں پھیل جاتی ہیں۔ پھنسیاں سُرخ رنگ کے دھبوں کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں۔ یہ گندی چیزیں چھونے ، انفیکشن ہونے ، غلط انجیکشن لگ جانے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔

بیماری کی شناخت

چونکہ اس بیماری کا نام ہی خارش ہے ، اس لئے اس میں بہت زیادہ خارش ہوتی ہے۔ مریض خارش کرتے کرتے پریشان ہو جاتا ہے۔

گھریلو علاج

خارش ہو جانے پر پانی میں نیم کی چھال گھسا کر لگائیں۔

سنگترے کے چھلکوں کو چٹنی کی طرح پیس لیں۔ پھر اس کو خارش والی جگہ پر لگا ئیں ۔

تلوں کے تیل میں تلسی کا رس ملا کر کچھ دنوں تک لگانے سے خارش دور ہو جاتی ہے۔

لیموں کا رس اور چمبیلی کا تیل برابر کی مقدار میں لے کر متاثرہ جگہ پر لگائیں۔

تھوڑے سے نیم کے پتے پانی میں ابالیں۔ پھر اس پانی سے غسل کریں۔ آٹھ دس دن تک نیم کے پانی سے غسل کرنے سے خارج دور ہوجاتی ہے۔

پسی ہوئی گندھک 10 گرام, 100 گرام ناریل کے تیل میں ملالیں ۔ اس کو بار بار خارش والی جگہ پر لگا ئیں ۔

5 گرام سیاہ مرچ, اور 10 گرام گندھک, دونوں کو باریک پیس کر چھان لیں۔ پھر اسے تھوڑے سے گھی میں ملا کر مرہم بنا لیں۔ اسے متاثرہ جگہوں پر لگا ئیں ۔

100 گرام چمبیلی کے تیل میں ، 25 گرام آنولے کا رس ملا کر شیشی میں بھر کر رکھ لیں۔ پھر اسے دن بھر میں چار پانچ بار لگا ئیں۔

چندن کے تیل میں لیموں کا رس ملا کر خارش والی جگہ پر دن میں چھ سات بار لگا ئیں۔

250 گرام تلوں کے تیل میں تھوڑی سی دوب ڈال کر آنچ پر پکائیں۔ دوب جب سرخ ہو جائے، تو اسے آنچ سے اُتار کر چھان لیں۔ اس تیل کو استعمال میں لائیں۔

تیار شدہ یونانی دوائیں

اطریفل شاہترہ۔۔۔۔5 سے 10 گرام، عرق چوب, چینی یا پانی کے ساتھ رات کو سوتے وقت لیں۔

حب کتھ۔۔۔۔ ایک گولی ، مویز منقی میں رکھ کر پانی سے نگل لیں۔ یہ احتیاط رکھیں کہ گولی دانتوں سے نہ لگے۔

شربت عشبہ خاص۔۔۔۔ 50 ملی لیٹر، پانی میں ملا کر لیں۔

معجون عشبہ۔۔۔۔ 5 سے 10 گرام ، تک لیں۔

COMMENTS

WORDPRESS: 0
DISQUS: 0